سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کسی کے دباؤ پر استعفیٰ نہیں دیا،
صحت کی خرابی اُن کے استعفے کی وجہ بنی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے تاحال سیکرٹری الیکشن کمیشن کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی دو سالہ مدت ملازمت گزشتہ برس جولائی میں ختم ہوئی تھی تاہم چیف الیکشن کمشنر نے ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی تھی۔
ذرائع کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کچھ دن تک ہسپتال میں زیر علاج رہے اور اب گھر میں زیرِ علاج ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ میری صحت کام کرنےکی اجازت نہیں دیتی۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے اور اس وقت کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد درخواستوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ
بیرسٹر علی ظفر، عمیر نیازی، لامیہ نیازی سمیت دیگر وکلاء الیکشن ٹربیونل میں پیش ہوئے ہیں۔ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن ارشد ملک ٹیم کے ہمراہ ٹریبونل میں پیش ہوئے۔
بیرسٹر علی ظفر نے بانیٔ پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہوئی ہے اور اپیل زیرِ سماعت ہے۔
ٹربیونل نے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ آپ اپنے دلائل کب تک مکمل کر لیں گے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ مجھے 45 منٹ کا وقت درکار ہے، اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔
ٹربیونل نے سوال کیا کہ توشہ خانے میں جو چیزیں لی گئیں کیا ان کی تفصیلات دی گئیں؟ ہم یہاں توشہ خانہ کیس کے میرٹ پر بات نہیں کریں گے، جو پیسہ توشہ خانے کی چیزیں بیچ کر حاصل کیا گیا وہ کیوں ظاہر نہیں کیا گیا؟
وکیل علی ظفر نے کہا کہ توشہ خانے میں ساری چیزیں ڈیکلیئر کی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل طیب بلال نے دلائل دیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عدالت کو بتایا کہ جو اعتراضات میں الزام لگایا گیا ہے اس پر نااہلی نہیں بنتی، عدالت کو بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا نااہلی کا فیصلہ آر او نہیں کر سکتا، یہ کوئی عدالت ہی کر سکتی ہے۔



Comments
Post a Comment